Skip to content
Sarkarinaukri.pk
Menu
  • Jobs Category
  • Jobs Types
  • Contact Us
  • About Us
  • How to Apply Online
  • What we offer?
  • FAQs
  • Advertise With Us
Menu
USa iran

امریکہ ایران تعلقات: پاکستان بطور ثالث

Posted on July 11, 2026

امریکہ ایران تعلقات: پاکستان بطور ثالث

پچھلے چند مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں جو سب سے حیران کن کردار سامنے آیا ہے وہ پاکستان کا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود اندرونی چیلنجز، معاشی دباؤ اور خطے میں کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے، اچانک واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا مرکزی نکتہ بن گیا۔ یہ کہانی نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے اہم ہے بلکہ خطے کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

جنگ سے مذاکرات تک

اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے، جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی مارے گئے۔ اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا، تیل کی عالمی منڈیاں متاثر ہوئیں اور آبنائے ہرمز میں بحری ترسیل خطرے میں پڑ گئی۔

اسی دوران پاکستان نے ثالثی کی پیشکش کی۔ فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے استوار کیے۔ آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی، اور گیارہ و بارہ اپریل کو اسلام آباد میں انیس سو انہتر کے بعد پہلی بار امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ راست بلند سطحی مذاکرات ہوئے۔ یہ مذاکرات اگرچہ کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، لیکن ایک ایسا عمل شروع ہو گیا جسے چند ماہ پہلے تک ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

پاکستان ہی کیوں؟

یہ سوال اہم ہے کہ ترکی، مصر اور قطر جیسے ممالک بھی ثالثی میں سرگرم رہے، مگر پاکستان مرکزی کردار کیوں بنا۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی روابط ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے نے بھی پاکستان کو خلیجی معاملات میں وزن بخشا۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل منیر کے درمیان ذاتی تعلقات نے بھی کردار ادا کیا، جسے امریکی صدر خود کئی بار سراہ چکے ہیں۔

تہران کی طرف سے بھی پاکستان کو ترجیح دی گئی، کیونکہ اسے ایک ایسا ملک سمجھا گیا جو امریکہ کا فوجی اتحادی ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتا ہے۔

بارہ جون کا معاہدہ

مہینوں کی مسلسل شٹل ڈپلومیسی کے بعد سترہ جون کو صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کی میزبانی اور تصدیق پاکستانی وزیراعظم نے بھی کی۔ اس معاہدے میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، اور ساٹھ دن کے اندر جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں جیسے پیچیدہ مسائل پر حتمی بات چیت کا خاکہ طے کیا گیا۔ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں تھا۔

آٹھ جولائی کا دھچکا

مگر امن کا یہ راستہ ہموار ثابت نہ ہوا۔ آٹھ جولائی کو، یعنی صرف چند دن پہلے، صدر ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر انقرہ میں کہا کہ ان کے خیال میں جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ یہ بیان اس وقت آیا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملہ کیا اور امریکہ نے جوابی کارروائی میں ایرانی اہداف پر لگاتار دو راتیں فضائی حملے کیے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کے قریب میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے۔

صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں اور صاف پانی کے پلانٹس کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جواب دیا کہ آبنائے ہرمز صرف ایرانی شرائط پر ہی کھلے گی، امریکی دھمکیوں پر نہیں۔ اس تازہ کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ہلا دیا اور تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں۔

پاکستان کے لیے داؤ پر کیا ہے

پاکستان کی ثالثی محض سفارتی کامیابی کی کہانی نہیں۔ اس کی اپنی قیمت بھی ہے۔ پاکستان کی معیشت خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر انحصار کرتی ہے، اور جنگ جاری رہنے سے یہ روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بھی کشیدگی کی اطلاعات ہیں، جہاں کچھ حلقے پاکستان کے ایران کے ساتھ نرم رویے سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے اندر شیعہ آبادی کے جذبات، بلوچستان کی صورتحال، اور مغربی سرحد پر ایران سے متصل علاقوں کا استحکام بھی پاکستانی قیادت کے پیشِ نظر ہے۔

اس کے باوجود، اگر یہ ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کو نہ صرف واشنگٹن بلکہ خطے کے دیگر کھلاڑیوں کی نظر میں بھی ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد فریق کے طور پر تسلیم کیا جائے گا، ایک ایسا مقام جو انیس سو اکہتر میں امریکہ چین سفارت کاری میں ثالثی کے بعد پاکستان کو دوبارہ حاصل نہیں ہوا تھا۔

آگے کیا؟

فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے۔ صدر ٹرمپ نے مذاکرات مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا، اور ان کے مذاکرات کار جاری بات چیت پر آمادہ نظر آتے ہیں، مگر زمینی حقائق، یعنی حملوں کا تسلسل، خطرے کی گھنٹی ہیں۔ پاکستان کے لیے آنے والے دن ایک اور کڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں: کیا وہ دونوں فریقین کو دوبارہ میز پر لا سکتا ہے، یا یہ نازک مفاہمتی یادداشت مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے پہلے تحلیل ہو جائے گی۔

جو بھی ہو، ایک بات واضح ہے کہ پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں ایک ایسی جگہ بنا لی ہے جس کی چند سال پہلے تک کوئی توقع نہیں کرتا تھا۔ اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان یہ کردار ادا کر سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے کب تک اور کس قیمت پر نبھا سکتا ہے

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Posts

  • پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ: دوستی جو رگوں میں بستی ہے
  • امریکہ ایران تعلقات: پاکستان بطور ثالث

To Join our Whatsapp group click on link for Female only

To Join our Whatsapp Group for male only

WhatsApp Channel Sarkarinaukari.pk
Whatsapp Number sarkarinaukri.pk

To subscribe us on WhatsApp Click Me

sarkarinaukri.pk Link
SarkariNaukri

Sarkari Naukri Pakistan – Latest government jobs, PPSC, FPSC, NTS & provincial vacancies. Apply online, check results, and download admit cards.

  • Privacy Policy
  • Copyright ©
  • Terms & Conditions / Terms of Service
  • Refund Policy
  • Data Protection Policy
  • Jobs Categories
  • Punjab Govt. Jobs
  • Federal Govt. Jobs
  • KPK Govt. Jobs
  • Balochistan Govt. Jobs
  • Sindh Govt. Jobs
  • GB Govt. Jobs
  • AJk Jobs
  • Top Locations
  • Lahore
  • Karachi
  • Islamabad
  • Rawalpindi
  • Quetta
  • Peshawar
  • Muzaffarabad
  • Gilgit
©2026 Sarkarinaukri.pk