پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ: دوستی جو رگوں میں بستی ہے
کبھی کبھی تاریخ ایک لمحے میں خود کو دہراتی ہے، اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔ سترہ ستمبر دو ہزار پچیس کی شام، ریاض کے الیمامہ محل میں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ہمارے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک دستاویز پر دستخط کیے، تو ٹی وی اسکرینوں پر یہ محض ایک اور معاہدہ لگ رہا تھا۔ مگر جو لوگ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلق کی گہرائی جانتے ہیں، ان کے لیے یہ لمحہ کچھ اور تھا۔ یہ ایک ایسی دوستی کی رسم تجدید تھی جو دہائیوں سے دو قوموں کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔
وہ دوستی جو ہمارے بزرگوں نے دیکھی
میرے والد اکثر بتاتے تھے کہ ستر اور اسی کی دہائی میں جب سعودی عرب میں تعمیراتی انقلاب آیا، تو لاکھوں پاکستانی وہاں گئے، سڑکیں بنائیں، عمارتیں کھڑی کیں، اور واپسی پر جو کمائی لائے اس نے کتنے ہی گھروں کے چولہے جلائے۔ یہ صرف مزدوری کا رشتہ نہیں تھا، یہ ایک ایسا بندھن تھا جس میں دونوں طرف کے لوگوں نے ایک دوسرے پر بھروسہ کیا۔ پاکستانی فوجی دستے سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے گئے، ہزاروں سعودی افسروں نے پاکستان میں تربیت پائی، اور خلیج کی جنگ میں بھی ہمارے جوان وہاں موجود رہے۔
تو جب اب سترہ ستمبر کو یہ نیا معاہدہ سامنے آیا، جس میں لکھا گیا کہ “کسی بھی ایک ملک پر جارحیت دونوں پر جارحیت تصور ہوگی”، تو دراصل یہ کوئی نئی بات نہیں کہی گئی، بس ایک پرانے وعدے کو کاغذ پر واضح الفاظ دے دیے گئے۔
وہ حملہ جس نے سب کو ہلا دیا
اس معاہدے کی کہانی کو سمجھنے کے لیے نو ستمبر کے اس دن کو یاد کرنا پڑے گا جب اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے مذاکراتی وفد پر حملہ کیا۔ ذرا سوچیے، قطر، جو امریکہ کا قریب ترین اتحادی ہے اور جہاں خطے کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ موجود ہے، وہاں بھی کوئی محفوظ نہیں رہا۔ اس واقعے نے پورے خلیج میں ایک خاموش خوف پیدا کر دیا۔ ہر حکمران، ہر عام شہری کے دل میں ایک ہی سوال تھا: اگر قطر محفوظ نہیں تو ہم کیسے محفوظ ہیں؟
سعودی عرب کے لیے یہ ایک تنبیہ تھی۔ اور اس تنبیہ کے بعد جس دروازے پر دستک دی گئی، وہ اسلام آباد کا دروازہ تھا۔ کیونکہ جب حقیقی آزمائش کا وقت آتا ہے، تو انسان اپنے پرانے، آزمودہ دوستوں کی طرف ہی دیکھتا ہے۔
کاغذ پر لکھے الفاظ، اور ان کے پیچھے چھپے سوالات
معاہدے کی بنیادی بات سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے سوالات بہت گہرے ہیں۔ دو دن بعد جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت بھی اس معاہدے کے تحت “دستیاب” ہوگی، تو دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی۔ سوچیے، ایک ایسا ملک جو خود مالی مشکلات میں گھرا ہے، جس کے اپنے چولہے اکثر مہنگائی کی آنچ میں جلتے ہیں، وہ اچانک عالمی جوہری سفارت کاری کی سرخیوں میں آ گیا۔
مگر پھر وہی روایتی احتیاط، وہی سفارتی محتاط پن دیکھنے کو ملا۔ خواجہ آصف نے بعد میں وضاحت دی کہ “جوہری چھتری” کا کوئی معاملہ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کا جوہری نظریہ ہمیشہ بھارت کے تناظر میں بنا ہے، اور کوئی بھی سنجیدہ تجزیہ کار یہ نہیں سوچتا کہ ہمارے ہتھیار کسی اور سرزمین منتقل ہوں گے۔ لیکن الفاظ ایک بار زبان سے نکل جائیں تو ان کی گونج دیر تک سنائی دیتی ہے، اور شاید یہی مقصد بھی تھا: دنیا کو یہ باور کرانا کہ سعودی عرب اکیلا نہیں۔
عام آدمی کے لیے اس کا مطلب کیا؟
اب سوال یہ ہے کہ اس معاہدے سے ایک عام پاکستانی کو کیا ملے گا؟ شاید فوری طور پر کچھ نظر نہ آئے، مگر بالواسطہ اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ سعودی عرب پہلے بھی مشکل وقت میں ہمارا ہاتھ تھامتا رہا ہے، چاہے وہ دو ہزار تئیس کا امدادی پیکج ہو یا تیل صاف کرنے کے کارخانوں میں سرمایہ کاری۔ پچیس لاکھ سے زائد پاکستانی جو آج سعودی سرزمین پر روزی کما رہے ہیں، ان کے لیے یہ خبر یقیناً اطمینان کا باعث ہوگی کہ دونوں ممالک کا رشتہ محض معاشی نہیں بلکہ اب باقاعدہ سلامتی کی سطح پر بھی مضبوط ہو رہا ہے۔
اور یہ بھی نہ بھولیں کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ چار روزہ فوجی تصادم کے بعد، ایک بڑی خلیجی طاقت کی کھلی حمایت ہمارے لیے ایک نفسیاتی سہارا بھی ہے۔ کبھی کبھی طاقت صرف ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں، بلکہ یہ جان کر بھی آتی ہے کہ آپ اکیلے نہیں۔
آخر میں، ایک سادہ سی بات
میں اکثر سوچتا ہوں کہ سفارت کاری کی زبان کتنی سرد ہوتی ہے، “تزویراتی مفادات”، “اجتماعی تحفظ”، “توسیعی ڈیٹرنس”۔ مگر ان اصطلاحات کے پیچھے دراصل بہت انسانی چیزیں چھپی ہوتی ہیں: خوف، بھروسہ، اور ایک دوسرے کی ضرورت میں کام آنے کا وعدہ۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ بھی، تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود، بنیادی طور پر اسی جذبے کی توسیع ہے جو برسوں پہلے دو قوموں کے درمیان قائم ہوا تھا۔
یہ معاہدہ کوئی جادوئی چھڑی نہیں جو راتوں رات سب مسائل حل کر دے گی، اور نہ ہی یہ کسی نئے تصادم کی دعوت ہے۔ یہ بس ایک یاد دہانی ہے کہ مشکل وقت میں، پرانے دوست اکثر سب سے پہلے یاد آتے ہیں۔


